15 جون 2009 - 19:30

سیستان و بلوچستان صوبے میں ریگی دہشت گرد وں کے نئی دہشت گرد کاروائی کے بعد بعض شواہد ایسے بھی ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی سیکورٹی ایجنسوں کے بعض عناصر کے ساتھ بھی ان کے تعلقات ہیں اور یہ کہ یہ اس وں کے اصلی اڈے پاکستانی سرزمین پر واقع ہیں جس کے بعد ایرانی وزیر داخلہ ایک وفد کی سربراہی میں پاکستان پہنچے اور انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم سیدیوسف رضا گیلانی اور وزیر داخلہ رحمن ملک کے ساتھ ملاقاتیں کرکے انہیں مطلوبہ شواہد پیش کئے. اس سلسلے میں مختلف قسم کی رپورٹیں درج ذیل ہیں.

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے م‍طابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار ایک وفد کے سربراہی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عبدالمالک ریگی کے کالعدم دہشت گردوں کی حوالگی کے سلسلے میں پر ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ نے کل بروز ہفتہ پاکستان روانہ ہونے سے قبل نامہ نگاروں سے بات چیت کی دوران کہا: میں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے میں نے ان سے دہشت گردوں کی فوری حوالگی پر مبنی ایرانی حکومت اور قوم کا مطالبہ پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ثبوت اور دستاویزات موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریگی کا دہشت گرد ٹولہ ایران کے صوبۂ سیستان و بلوچستان میں شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف ڈالنے کے لیے جدید وسائل اور آلات استعمال کر رہا ہے۔

ایران اور پاکستان کے وزراء اخلہ  کی ملاقات

دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکنزم پر اتفاق

پاکستان اور ایران نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکنزم بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں ایران کے وزیر داخلہ مصطفٰی نجار کی وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ملاقات میں کیا گیا ۔

ایرانی وزیر داخلہ نے سیستان بلوچستان میں خودکش حملے کے حوالے سے بعض شواہد اور معلومات پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک کے حوالے کردیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایرانی ہم منصب کو یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ایران میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ 

اس ملاقات میں پاکستان اور ایران نے سرحدی علاقوں میں مشترکہ نگرانی کے نظام کو فوری طور پر قائم کرنے سمیت بارڈر سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافے، دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے معلومات کے تبادلے اور ورکنگ گروپ کو موثر بنانے پر اتفاق کیا گبا ہے جبکہ ایرانی وزیر داخلہ نے عبدالمالک ریگی سمیت بعض مشتبہ افراد کی فہرست اپنے پاکستانی ہم منصب رحمن ملک کے حوالے کی ہے.

ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ریگی کو پناہ دینا دو ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے.

پاکستانی وزیر داخلہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو بتایا کہ 18 مطلوب افراد کو ایران کے حوالے کیا جاچکا ہے اور شواہد ملنے پر مزید کارروائی ہوسکتی ہے ۔

ایرانی وزیر داخلہ مصطفی نجار نے جمعہ کو ایرانی وفد کے ہمراہ وزیر داخلہ رحمان ملک سمیت سکیورٹی حکام سے ملاقات کی، جس میں ایران میں پاسداران انقلاب پر ہونے والے خودکش حملوں اور پاک ایران سرحدی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ ایرانی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی ملاقات انتہائی مثبت رہی اور مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں انہوں نے ایرانی وزیر داخلہ پر یہ بات واضح کردی ہے کہ ایران میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں ملوث ٹولے کا سرغنہ عبدالمالک ریگی پاکستان میں نہیں ہے بلکہ افغانستان میں موجود ہے جبکہ دیگر مطلوب افراد میں سے دو مبینہ افراد اس وقت پاکستانی سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہیں، تاہم ان کی شناخت کی تصدیق کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ دہشتگردی کے واقعے کے حوالے سے تمام شواہد اور معلومات پر ہر صورت تعاون کریگا، تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ایران میں ہونے والے پاسداران انقلاب پر خود کش حملے کے حوالے سے حکومت پاکستان کے پاس کوئی اطلاع نہیں تھی۔

ایرانی وزیر داخلہ مصطفیٰ محمد نجار نے کہا کہ گذشتہ اتوار کو ایران میں ہونے والے خود کش حملے میں جُنداللہ نامی دہشت گرد ٹولہ ملوث ہے اور پاکستان کو اس دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی کے ثبوت پیش کردیئے گئے ہیں جبکہ پاکستان نے جنداللہ دہشت گرد نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے ایران کے ساتھ بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مصطفیٰ محمد نجار اسلام آباد پہنچے تو پاکستانی وزير داخلہ رحمن ملک نے ان کا استقبال کیا جس کے بعد دونوں وزراء داخلہ کے درمیان مذاکرات کا دور شروع ہوا ان مذاکرات میں دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔

ایرانی وزير داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ پاکستانی حکومت دہشت گردوں کی حمایت کررہی ہے بلکہ حکومت سے وابستہ بعض اہلکار ان دہشت گردوں کی سرپرستی کررہے ہیں اور اس کے شواہد ایران نے پاکستان کے حوالے کردیئے ہیں

ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہماری درخواست پاکستان سے یہ ہے کہ پاکستانی عمائدین اور دوست یہ مسئلہ حل کریں۔ اور خدا کرے کہ بہت جلد ہو۔ اور ہم نے ان سے کہا ہے کہ کالعدم دہشت گرد وں جنداللہ کے سرغنے عبدالمالک ریگی  کو ہمارے حوالے کریں تاکہ یہ تنازعہ طے ہوجائے کیونکہ یہ تنازعہ دونوں اسلامی ممالک کے تعلقات کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔‘

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر ان دہشت گردوں کے خلاف ایک مشترکہ ٹاسک فورس بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ ان دہشت گردوں کو اس خطے سے بھگا دیں تاکہ آئندہ کہیں بھی وہ ایسی کارروائی نہ کرسکیں۔

افغان ترجمان: جنداللہ کاسربراہ افغانستان میں نہیں  

ادھر افغانستان کی سرکاری ترجمان نے پاکستان کا یہ الزام مسترد کیا ہے کہ عبدالمالک ریگی افغانستان میں ہے.

افغان وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ظاہر فقیری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی وزیرداخلہ رحمن ملک کی جانب سے عبدالمالک ریگی کی افغانستان میں موجودگی کا دعوی بے بنیاد ہے اور ہم ایرانی حکام کے اس نقطۂ نظر سے متفق ہیں کہ جنداللہ کا سرغنہ پاکستان میں ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم گیلانی کی ایرانی وزیر داخلہ سے ملاقات

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ایرانی وزیر داخلہ مصطفی محمد نجار نے ملاقات کی۔

ایرانی وزیرداخلہ سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل  ایران نے سیستان پر حملے سے متعلق شو اہد پاکستان کے حوالے کر دیئے ۔

پاکستان کے نجی ٹی وی  آج نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے ایرانی ہم منصب مصطفی محمد نجار نے اسلام آباد میں ملاقات کی ۔ملاقات میں ایرانی وزیر داخلہ نے رحمان ملک کو سیستان میں خودکش حملے کے شواہد مہیا کیے اور درخواست کی کہ ایران کو مطلوب افراد حوالے کیے جائیں ۔

ملاقات میں دہشت گردی کیخلاف مشترکہ مکینز م سمیت مختلف معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایران پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقے سیستان میں ایک تقریب میں خودکش حملے میں متعدد